
مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست اس وقت ایک انتہائی نازک اور سنسنی خیز موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے، جہاں ایک طرف پسِ پردہ تاریخ ساز سفارت کاری عروج پر ہے تو دوسری طرف عالمی تصادم کی چہ میگوئیاں ہیں۔ اس حوالے سے سینیئر تجزیہ کار فواد احمد نے وی لاگ میں کچھ اہم انکشافات کیے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار فواد احمد کاکہنا ہےکہ فیلڈ مارشل اس وقت تہران میں موجود ہیں جہاں وہ کسی بڑے امن معاہدے یا ’میثاقِ اسلام آباد‘ کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور ان کی ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
تاہم، سفارت کاری کے اس ماحول پر جنگ کے سائے گہرے ہیں۔ امریکی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے امریکہ میں بڑے حملوں اور واشنگٹن میں ‘وار روم’ کے متحرک ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ اسرائیل اس ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ فی الحال حج اور حرمت کے مہینے کے احترام میں عارضی جنگ بندی قائم ہے، لیکن سیاسی حلقو ں کے نزدیک اگر آئندہ چند گھنٹوں میں سفارت کاری ناکام ہوئی تو حج کے فوراً بعد ایران اور کیوبا اس جنگ کا مرکز بن سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران آبنائے ہرمز کی بندش اور زیر زمین انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹ کر پوری دنیا کو ایک ہولناک معاشی و مواصلاتی دھچکہ دے سکتا ہے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے نزدیک تہران میں فیلڈ مارشل کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں یا کوئی مشترکہ دوست ملک (جیسے پاکستان، ‘میثاقِ اسلام آباد’ کے نام کی رو سے) جنگ کو روکنے کے لیے آخری حد تک جا رہے ہیں۔ لیکن اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کا سخت رویہ اور ایران پر یکطرفہ دباؤ ہے۔ تہران میں عوامی احتجاج اس بات کا مظہر ہے کہ ایرانی قیادت داخلی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔وہ کوئی بھی ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے جو ان کی قومی خودمختاری کی قیمت پر ہو۔ اسماعیل بقائی کی بطور نئے ترجمان تعیناتی تہران کی اس حکمتِ عملی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ سفارت کاری کا دروازہ تو کھلا رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اپنے پتے مضبوطی سے کھیلیں گے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق اس پورے منظرنامے میں میڈیا کا تضاد سب سے بڑا ہتھیار بن کر ابھرا ہے۔ ایک طرف امریکی میڈیا (جیسے سی بی ایس) جنگ کا ماحول بنا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘وار روم’ روانگی جیسی ویڈیوز شیئر کر کے نفسیاتی دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کے پیچھے مبینہ طور پر اسرائیلی فنڈنگ اور پشت پناہی شامل ہے۔ دوسری طرف عرب میڈیا جنگ بندی کی نوید سنا رہا ہے۔ یہ تضاد اور ایران کی فضائی حدود (ایئر سپیس) کی بندش جیسی افواہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل کسی بھی صورت امریکہ ایران ڈیل نہیں ہونے دینا چاہتا اور وہ انفارمیشن وار کے ذریعے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو روایتی جنگ کے بجائے دنیا کو ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مسلم ممالک کے دباؤ کے باعث حج تک جنگ کا ٹلنا صرف ایک عارضی ریلیف ہے۔ حج کے بعد جنگ کا دائرہ کار کیوبا تک پھیلنے کا خدشہ یہ بتاتا ہے کہ یہ تنازع اب امریکہ کی اپنی دہلیز تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کا جوابی پلان روایتی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں تیل کا وہ بحران پیدا ہوگا جسے امریکہ وینزویلا کے تیل سے بھی پورا نہیں کر پائے گا۔
زیرِ زمین انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹنے کا مبینہ منصوبہ عالمی بینکنگ، مواصلات اور انٹرنیٹ کی دنیا کو سکتہ دے سکتا ہے، جو کہ جدید دنیا کے خلاف سب سے مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔موجودہ گھڑی عالمی تاریخ کا ایک انتہائی فیصلہ کن لمحہ ہے۔ آئندہ چند گھنٹے یہ واضح کر دیں گے کہ آیا فیلڈ مارشل کا مشن کامیاب ہوتا ہے اور دنیا ’میثاقِ اسلام آباد‘ کے ذریعے امن کا راستہ چنتی ہے، یا پھر حج کے ایام ختم ہوتے ہی دنیا ایک بار پھر ہائبرڈ جنگ شروع ہوتی ہے جس کا اثر دنیا کے ہر فرد پر پڑے گا۔
فیلڈ مارشل تہران میں،اسماعیل بقائی ای ر ان کے نئے ترجمان مقرر!بڑی تبدیلیاں،حیرت انگیز انکشافات!@fawadnb #America #FieldMarshalAsimMunir #Iran #Pakistan #NeoNews pic.twitter.com/jx29TPZgyo
— Neo News (@NeoNewsUR) May 23, 2026









