
ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، سیکرٹ سروس کی جوابی کارروائی کے دوران حملہ آور ہلاک جبکہ ایک راہگیر بھی جان کی بازی ہار گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی حدود کے قریب ایک مسلح شخص نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ آور پر جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
سیکرٹ سروس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ انتھونی گگلیلمی کے مطابق واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق مذاکراتی امور میں مصروف تھے، تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔
حکام کے مطابق واقعہ شام تقریباً 6 بجے پیش آیا، جب مشتبہ شخص نے بیگ سے پستول نکال کر وائٹ ہاؤس کی جانب فائرنگ کی۔ صورتحال کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کرتے ہوئے اطراف اور عمارت کی چھت پر اسنائپرز تعینات کر دیے۔ سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جبکہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر موجود صحافیوں اور ٹی وی رپورٹرز کو بھی فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا۔









