
(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں پاکستان کی وسیع صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، ہنر کی فراہمی اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج ہانگژو میں علی بابا گروپ (Alibaba Group) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں چیئرمین جوو سائی (Joe Tsai) نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر حکومتِ پاکستان کے سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے علاوہ علی بابا گروپ کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران چیئرمین جوو سائی نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی جدت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں پاکستان کی وسیع صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، ہنر کی فراہمی اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم اور چیئرمین جوو سائی نے علی بابا گروپ اور پاکستان کے سرکاری و نجی شعبوں کے اداروں کے درمیان متعدد اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور معاہدوں پر دستخط اور تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔ ان معاہدوں کا مقصد علی بابا گروپ کے اشتراک سے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعظم کی خصوصی کاوش پر چیئرمین جوو سائی نے حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر دستخط پر اتفاق کیا۔ جس پر بعد ازاں دستخط ہوئے۔
یہ فریم ورک مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سلوشنز، ڈیجیٹل تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے فروغ، فن ٹیک اور صحت کے شعبے میں جدت پر مبنی اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے علی بابا گروپ کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس معاہدے کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سلوشنز: پاکستان کے ادارے اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی نوعیت کے AI ماڈلز تیار کریں گے، پانچ لاکھ افراد کے لیے ملک گیر مہارتوں کے فروغ کے پروگرام شروع کریں گے، جبکہ AI ہیکاتھونز اور اختراعی سرگرمیوں کا مشترکہ انعقاد بھی کیا جائے گا۔
صحت کی ٹیکنالوجی اور ایمباڈیڈ انٹیلیجنس:
ڈی اے ایم او (DAMO) اکیڈمی اور Sky47 پاکستان کے شہروں میں AI سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کروائیں گے، جبکہ DAMO اکیڈمی اور اگنائٹ پاکستانی جامعات میں ایمباڈیڈ انٹیلیجنس کی استعداد کار بڑھانے کے پروگرام مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کی ترقی اور ای کامرس میں توسیع:
علی بابا اور SMEDA کم از کم 2,000 پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ایک خصوصی “ پاکستان پویلین” میں شامل کریں گے، جس سے انہیں AI سے چلنے والے کاروباری ٹولز اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
مالی شمولیت:
کوکو ٹیک (KOKO Tech) پاکستان میں “Buy Now, Pay Later (BNPL)” سروس متعارف کروائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 30 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری، جدت، روزگار کے مواقع اور تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے، جبکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے ایک ابھرتے ہوئے علاقائی مرکز کے طور پر بھی مستحکم کریں گے۔









