امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار نمایاں عسکری قیادت کی خاموش سفارت کاری کی عالمی سطح پر پذیرائی:ٹی آر ٹی کی رپورٹ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
 امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار نمایاں عسکری قیادت کی خاموش سفارت کاری کی عالمی سطح پر پذیرائی:ٹی آر ٹی کی رپورٹ
 امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار نمایاں عسکری قیادت کی خاموش سفارت کاری کی عالمی سطح پر پذیرائی:ٹی آر ٹی کی رپورٹ



اسلام آباد:مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور امریکا و ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ترک میڈیا آؤٹ لیٹ ’ٹی آر ٹی‘ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، دیگر علاقائی قوتوں کے برعکس پاکستان نے تشہیر کے بجائے خاموش، منظم اور بیک چینل ڈپلومیسی کا راستہ اپنا کر دونوں فریقین کے مابین روابط قائم رکھے۔
 پاکستان کو کسی سخت نظریاتی صف بندی یا مستقل اتحاد کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، اسی لیے وہ ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان نے اپنے جغرافیے، عسکری و انٹیلیجنس ساکھ کی بدولت امریکا، چین، خلیجی ریاستوں، ایران اور ترکیہ کے ساتھ فعال اور متوازن روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
 رپورٹ کے مطابق، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی ساکھ پاک بھارت کشیدگی اور پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وہ ایک حقیقت پسند اور نتائج پر مبنی سفارتی انداز رکھنے والی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان روابط کا سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔
 پاکستان نے اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت ترین مؤقف اپنایا ہے، کیونکہ موجودہ دور میں انسدادِ دہشت گردی کو کسی بھی علاقائی معاشی انضمام کے لیے بنیادی شرط سمجھا جا رہا ہے۔
    عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کی اصل کامیابی تشہیر نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں جس میں پاکستان کامیاب رہا ہے، تاہم اس بین الاقوامی اثر و رسوخ کو مستقل برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنے اندرونی معاشی مسائل پر قابو پانا ہوگا۔





Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *