
(ویب ڈیسک)ڈیلی میل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں قائم کی گئی بحری ناکہ بندی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ درجنوں ایرانی جہاز خفیہ طور پر امریکی نگرانی سے بچ نکلے ہیں، جبکہ ایران نے اس اہم تیل گزرگاہ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے تین ٹینکروں پر حملہ بھی کیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق تقریباً 34 ایرانی آئل ٹینکر ناکہ بندی سے بچ نکلے، جن میں سے 19 جہاز خلیج فارس سے امریکی بحریہ کو چکمہ دے کر نکل گئے جبکہ 15 جہاز بحیرہ عرب سے ایران کی جانب داخل ہوئے۔
ان میں سے6 ٹینکر ایرانی خام تیل اسمگل کر رہے تھے، جن کی مجموعی مقدار 10.7 ملین بیرل تھی، جس کی مالیت تقریباً 910 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
یہ رپورٹ بدھ کی صبح ایران کی جانب سے آبنائے میں دو کارگو جہازوں کو قبضے میں لینے کے بعد سامنے آئی، جب کہ ان دونوں اور ایک تیسرے جہاز پر حملہ بھی کیا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ان جہازوں نے اس کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔
خیال رہے کہ امریکی صدرٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں لیکن ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی جاری رکھیں گے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اس اہم آبی راستے کو دوبارہ کھولے۔
جیسے ہی تین کنٹینر جہازوں پر ایرانی فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور برینٹ کروڈ فیوچرز 99.21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئیں، جبکہ عوامی رائے ٹرمپ کی جنگ کے خلاف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نجی طور پر ایران کے خلاف دوبارہ بمباری شروع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اورانہیں امید ہے کہ معاشی دباؤ ہی تہران کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔
اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس تنازع کو طول دینے سے محتاط ہیں کیونکہ یہ امریکی عوام میں انتہائی غیر مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے میں تیل بردار جہازوں پر حالیہ حملے اس ہفتے کے آغاز میں تہران سے منسلک ایک جہاز کو امریکی قبضے میں لینے کے ردعمل میں کیے گئے۔
ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز “توسکا” پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنایا اور قبضے میں لے لیا۔ ان کے مطابق جہاز نے متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا تھا اور ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جہاز کا انجن بند کرنے کے بعد امریکی میرینز نے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے جہاز سے برآمد ہونے والے سامان کو “چین کا تحفہ” قرار دیا۔
چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، کو جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ایران نے اس کارروائی کے خلاف جوابی اقدام کا عزم ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے۔
ایرانی حکام نے ٹرمپ کے اقدام کو “مسلح قزاقی” قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکہ کی جنگ بندی کی درخواستوں کو نظر انداز کریں گے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، قبضے میں لیے گئے دونوں جہاز احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے اور انہوں نے “ضروری اجازت ناموں کے بغیر کام کر کے بحری سلامتی کو خطرے میں ڈالا”۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ نے صبح کے وقت ان جہازوں کی نشاندہی کی اور انہیں روک کر ایرانی ساحل کی طرف منتقل کر دیا۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے میں اسلامی جمہوریہ کے قوانین کی خلاف ورزی یا محفوظ گزرگاہ کے خلاف کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔









