اپیس ایکس پاکستانی نوجوان کی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے پر غور کر رہی بلال بن ثاقب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
اپیس ایکس پاکستانی نوجوان کی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے پر غور کر رہی بلال بن ثاقب
اپیس ایکس پاکستانی نوجوان کی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے پر غور کر رہی بلال بن ثاقب

(ویب ڈیسک)وزیر مملکت  بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ اپیس ایکس پاکستانی نوجوان کی کمپنی مبینہ طور پر  60 ارب ڈالر میں خریدنے پر غور کر رہی ہے۔

وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ارب پتیوں کا دور آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26 سالہ پاکستانی صالح ، نے ایک ایسی کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی ہے جسے اپیس ایکس مبینہ طور پر 60 ارب ڈالر میں خریدنے پر غور کر رہی ہے۔یہ پاکستان کے لیے ایک نہایت فخر کا لمحہ ہے، اور ہماری نوجوان نسل کے لیے اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ وہ جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں،ان کے لیے کوئی حد مقرر نہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ میں کچھ عرصہ پہلے سلیکون ویلی میں صالح سے ملاقات ہوئی تھی  اور وہ مجھے حیران کن حد تک ذہین لگا۔یہی صاف اور واضح سوچ آپ کو پاکستان کے نوجوانوں میں عام طور پر نظر آتی ہے۔ایم آئی ٹی ( MIT) نے اسے جو فراہم کیا، وہ تھا سرمایہ، کمپیوٹنگ کی طاقت، اور ایک ایسا ماحول جو باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقامی ہنر اور ان سہولیات کے درمیان فرق جو ہم انہیں فراہم کرتے ہیں، پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک پوری نسل کو وہ سہارا دینے کا معاملہ ہے جس کی وہ مستحق ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہمارے پاس ہنر کی کمی کبھی نہیں رہی۔ میں نے پاکستانی انجینئرز کو عالمی سطح پر ناممکن کو ممکن بناتے دیکھا ہے۔ جو چیز ہمارے پاس نہیں، وہ ہے ایک ایسا نظام جو انہیں ملک کے اندر ترقی کرنے کے مواقع دے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صالح کی کہانی ہر نوجوان پاکستانی کے اندر دو چیزیں پیدا کرنی چاہیے۔ بے پناہ فخر، اور یہ پختہ یقین کہ اگلا 60 ارب ڈالر کا خیال پاکستان میں ہی حقیقت بن سکتا ہے۔

بلال بن ثاقب  کا کہنا تھا کہ ہمیں ذہین دماغوں کی کمی نہیں ،ہمیں صرف درست حالات کی ضرورت ہے۔ درست پالیسی، سرمایہ، اور ایسی قیادت کے ساتھ جو نوجوانوں کو ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمجھے، یہ مسئلہ مکمل طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *