
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے اہم دور کے لیے آج سنیچر کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری کی سمت ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ‘فاکس نیوز’ کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال اس وفد کے ساتھ پاکستان نہیں جا رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف ان مذاکرات میں شریک نہیں ہو رہے۔نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو فی الحال امریکہ میں “انتظار” کی پوزیشن پر رہیں گے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوئی تو نائب صدر اور وزیر خارجہ فوری طور پر پاکستان روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں۔کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے “مثبت پیش رفت” دیکھنے میں آئی ہے اور وہ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔
سلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے، جہاں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے نمائندے میز پر بیٹھیں گے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد خطے میں مستقل امن کے لیے کسی حتمی معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے۔









