
تہران /اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششیں رنگ لانے لگیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک مختصر وفد کے ہمراہ آج رات اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی مصالحتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کا تسلسل ہے، جس کا مقصد خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانا ہے۔
اسلام آباد روانگی سے قبل عباس عراقچی نے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت سے اہم ٹیلیفونک رابطے کیے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان کا سفارتی کردار انتہائی متحرک ہے اور تہران پاکستان کی ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
اسلام آباد میں اس وقت غیر معمولی صورتحال ہے کیونکہ ایرانی وفد کی آمد سے قبل امریکہ کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم پہلے سے ہی وفاقی دارالحکومت میں موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان بیک وقت ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان ایک “سفارتی پل” کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کر کے فوری جنگ بندی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
عباس عراقچی پاکستانی مصالحتی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر امن فارمولے پر بات چیت کریں گے۔ پاکستان اور ایران نے علاقائی استحکام کے لیے عسکری اور سفارتی چینلز کو مسلسل فعال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی ٹیم کی اسلام آباد میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی عسکری ڈپلومیسی اور حکومت کی سیاسی کوششیں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔









